Sunday, 12 January 2014

اگر کبھی میری یاد آئے

اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
اگر وہ نخل فلک سے اڑ کر تمہارے قدموں میں آ گرے تو
یہ جان لینا وہ استعارہ تھا میرے دل کا
اگر نہ آئے------
مگر یہ ممکن ھی کس طرح ھے تم کسی پر نگاہ ڈالو
تو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹے
وہ اپنی ھستی نہ بھول جائے
اگر کبھی میری یاد آئے
گریز کرتی ھوا کی لہروں پہ ھاتھ رکھنا
میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا
مجگھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
میں اوس قطروں کے آئنوں میں تمہیں ملوں گا
اگر ستاروں میں اوس قطروں میں خوشبوؤں میں
نہ پاؤ مجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
میں گرد ھوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا

No comments:

Post a Comment